برصغیر کے مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر برطانوی راج کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے اور باقاعدہ طور پر برطانوی تاج کا اقتدار قائم ہو گیا۔
مسلمانوں کے تعلیمی، معاشی اور سیاسی حقوق سلب کر لیے گئے۔
3. سیاسی بیداری اور کانگریس کا قیام (1885ء)
13. تحریکِ پاکستان کا آخری مرحلہ (1940ء - 1947ء) ناکام رہا۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
پاکستان کی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ (1857ء سے 1947ء) ایک طویل اور صبر آزما سفر ہے، جس کا خلاصہ درج ذیل اہم نکات میں کیا جا سکتا ہے:
لارڈ کرزن نے انتظامی سہولت کے لیے بنگال کو دو حصوں میں بانٹا۔ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، اس لیے مسلمانوں نے اس کا خیرمقدم کیا جبکہ ہندوؤں نے شدید مخالفت کی۔
یہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف پہلی بڑی مسلح بغاوت تھی۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
سر آغا خان کی قیادت میں 35 مسلم رہنماؤں کا وفد وائسرائے لارڈ منٹو سے ملا اور مسلمانوں کے لیے جداگانہ طریقہ انتخاب کا مطالبہ کیا۔
انگریز حکومت نے مسلمانوں کے مطالبے کو مانتے ہوئے کے اصول کو تسلیم کیا۔ 7. لکھنؤ پیکٹ (1916ء)
1857ء کی جنگ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ دردناک واقعہ ہے جہاں سے مسلمانوں کے زوال کا آغاز ہوا۔ اس جنگ میں شکست کے بعد برطانوی حکومت نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ انہیں یہ یقین تھا کہ مسلمان اس جنگ کے اصلی مفسد ہیں۔ انگریزوں نے مسلمانوں سے ان کی جائیدادیں چھین لیں، اردو کو سرکاری زبان کا درجہ ختم کر دیا اور مسلم تعلیمی اداروں کو بند کر دیا۔ اس دور میں سرسید احمد خان جیسے روشن خیال رہنما ابھرے، جنہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا اور علی گڑھ تحریک کا آغاز کیا تاکہ قوم کو تعلیمی اور معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
2. سر سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک
پاکستان کی تاریخ 1857ء سے 1947ء تک کا سفر ایک جدوجہد کا سفر ہے۔ یہ درس دیتا ہے کہ قومیں جب متحد ہوتی ہیں اور انھیں ایک مستحق قیادت ملتی ہے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں۔ پاکستان کا حصول محض ایک ٹکڑہ زمین حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسے نظامِ حیات کو نافذ کرنے کی خواہش تھی جہاں مسلمان اپنے مذہبی اور ثقافتی اقدار کے ساتھ آزاد زندگی گزار سکیں۔
۹. نہرو رپورٹ (۱۹۲۸ء) اور قائدِ اعظم کے چودہ نکات (۱۹۲۹ء)
3۔ سیاسی بیداری اور مسلم لیگ کا قیام (1906ء)
ان کٹھن حالات میں سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی تعلیمی اور سیاسی بحالی کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور اردو ہندی تنازع (1867) کے بعد واضح کیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔